برسوں بعد پاکستان میں پلاسٹک کرنسی متعارف کروانے کا فیصلہ، نئے نوٹ میں کونسے نئے فیچرز
ہوںگے؟ تصویر جاری
پشاور یونیورسٹی نے پلاسٹک کرنسی کے ڈیزائن بھی تیار کر لیے ہیں۔ جعلی کرنسی کے خاتمے کے لئے نئے اور جدید پلاسٹک کرنسی لانے کے اس منصوبے پر مزید کام بھی ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے سنیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا کہاسٹیٹ بینک کو کافی عرصے سے پلاسٹک کرنسی لانے کا کہا جا رہا ہے ، اسٹیٹ بینک بھی پلاسٹک کرنسی لانے پر کافی عرصے تک کام کرتا رہا ہے لیکن اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا ، نہ ہی اسٹیٹ بینک ایسا کوئی منصوبہ سامنے لایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جعلی کرنسی کی بھرمار ہے جس کے ہاتھوں شہری بھی پریشان ہیں۔ جعلی کرنسی کے خاتمے کے لیے ہی ایک ایسی کرنسی لانا ہوگی جس کی جعلی کاپیاں بنانا نا ممکن ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک کرنسی لانے سے متعلق اس منصوبے کے تحت 50 روپے ،100 روپے ،500 روپے اور 1 ہزار روپے کے پلاسٹک نوٹ لانے کا پلان دیا گیا ہے۔ نئے پلاسٹک نوٹوں کا ڈیزائن پشاور یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ فائن آرٹس کے طالبعلم نور الحسن نے تیار کیا۔ماہرین معیشت کا بھی ماننا ہے کہ پلاسٹک کرنسی لانے کی وجہ سے جعلی کرنسی اور اس کو استعمال میں لاتے ہوئے فراڈز میں کمی لانے میں نمایاں مدد ملے گی۔
No comments:
Post a Comment